24 ستمبر 2013 - 20:30
مفتی مصر کا القرضاوی سے خطاب: الزائمر کاشکارہو، خدا تمہیں شفا دے

سابق مصری مفتی شیخ علی جمعہ نے مصر اور الازہر کے بارے میں قطر کے مصری نژاد مفتی شیخ یوسف القرضاوی کے موقف کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ القرضاوی الزائمر کی بیماری میں مبتلا ہیں لہذا ان سے کہنا چاہوں گا کہ مصر کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دیار مصر کے سابق مفتی ڈاکٹر شیخ علی جمعہ نے حامعۃالازہر اور مصر کے بارے میں القرضاوی کے حالیہ موقف کا جواب دیتے ہوئے کہا: خدا تمہیں شفا دے، تم بیمار ہو اور تم نہیں جانتے کہ کیا کہہ رہے ہو؟ اس کے باوجود تم نے جو کہا ہے اس کی بنا پر قانون کی نگاہ میں تم لائق گرفت ہو۔ "اخبار مصر" نامی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ مصر کے سابق مفتی نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں زور دے کر کہا کہ القرضاوی الزائمر کی بیماری میں مبتلا ہیں اور قرضاوی اخلاقی جرات کرکے لوگوں کو اپنی اس صورت حال سے آگاہ کریں اور ان کو اپنی بیماری سے آگاہ کریں کیونکہ بیمار پر کوئی حرج نہيں ہے۔ قرضاوی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت مصر انہیں ہراساں کررہی ہے اور کہا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس نے ان کا نام ایسے افراد کی فہرست میں درج کیا ہے جن کو مصر میں داخل ہوتے ہی گرفتار کیا جائے گا۔ قرضاوی اپنے متناز‏عہ فتووں خاص طور پر لیبیا کے معمر قذافی، شام کے بشار الاسد اور مصر کے فوجی افسران کے قتل کے فتووں ـ کی وجہ سے کافی "مشہور" ہوئے ہیں؛ وہ مصر میں مرسی کی اخوانی حکومت کے حامی تھے اور بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ قرضاوی اور امیر قطر نے مل کر تاریخ میں پہلی اخوانی حکومت کو فرقہ واریت میں دھکیل دیا جس کی وجہ سے یہ پہلی حکومت صرف ایک سال چل سکی اور ناکام ہوگئی۔ قرضاوی مرسی کا تختہ الٹ جانے کے بعد مصریوں کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا اور شیخ الازہر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے مصر کی نئی حکومت کی حمایت کی تھی۔ قرضای علاقے میں تشدد پسند جماعتوں کی حمایت کی وجہ سے ان کے معنوی باپ بھی کہلاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭